ایران امریکا کے ساتھ جنگ اور مذاکرات دونوں کیلئے تیار ہے، عباس عراقچی
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے جب کہ جنگ یا سفارت کاری کے راستے کا انتخاب اب صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے رواں ہفتے امریکا تک ایک تجویز پہنچائی تھی جس کے تحت آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے اور بحری آمدورفت بحال کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ یہ تجویز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا آبنائے ہرمز سے امریکی جاسوس آبدوز پکڑنے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اور اس کے بعد بیانات میں کہا ہے کہ انہوں نے ایران کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ تہران کو جنگ میں شدید نقصان ہو رہا ہے۔
عباس عراقچی نے اس معاملے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کا بیان سنا ہے تاہم ایران کو اب تک ثالثوں کے ذریعے تجویز کو مسترد کیے جانے کا باضابطہ جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے بدلے تہران چاہتا ہے کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں اور اسے اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق یہ شرائط نئی نہیں ہیں بلکہ امریکا ان شرائط پر ’اسلام آباد میمورنڈم‘ میں بھی رضامندی ظاہر کر چکا تھا۔ ایران سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ امن کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اب بھی ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے یا معاہدہ کرنے کے معاملے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بھی امریکا کے مڈٹرم انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔
اس معاملے پر عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکی مڈٹرم انتخابات کی کوئی پروا نہیں ہے، بلکہ تہران صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں عندیہ دیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسی ہفتے مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔