پروازوں سے روکا گیا تو خطے میں کوئی جہاز نہیں اڑے گا، ایران
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام امریکا کی دشمنی پر مبنی پالیسیوں پر عمل درآمد میں اس کا ساتھ دینے والوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ اس معاملے پر ایران کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ’خطے میں پروازیں یا تو سب کے لیے کھلی ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔
واضح رہے کہ عمان، آذربائیجان اور جارجیا سمیت چند دیگر ممالک نے امریکی پابندیوں کے بعد ایرانی ایئرلائنز پر پابندی عائد کی ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے بھی اپنے ایئرپورٹس پر ایرانی ایئرلائنز کی آمدورفت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری، نقد انعامات کا اعلان
عراق نے بھی نجف، اربیل اور سلیمانیہ ایئرپورٹس پر ایران سے آنے والی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ اس پابندی کے بعد ایران کا پڑوسی ملک عراق کے ساتھ فضائی رابطہ معطل ہوگیا ہے۔
عراق میں واقع ایرانی سفارت خانے نے بھی اس معاملے پر ایک بیان میں کہا کہ ’اہلِ تشیع کے پہلے امام کا مزار نجف میں واقع ہے جہاں کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کے سب سے بڑے شیعہ ملک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
امریکی سیکریٹری خزانہ نے 8 ستمبر کو ایران کے ایوی ایشن سے منسلک 36 اداروں اور کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 23 ستمبر کے بعد ایرانی ایئرلائنز کے لیے بین الاقوامی سطح پر آپریشن جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔
امریکا نے ان پابندیوں کے ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ پابندیوں کا شکار ایرانی ایئرلائنز کو خدمات فراہم کرنے والے غیر ملکی ایئرپورٹس یا دیگر اداروں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور انہیں امریکی ڈالر کے بینکنگ سسٹم سے بھی باہر کیا جاسکتا ہے۔