آسٹریا میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی
رپورٹس کے مطابق اس قانون کے تحت ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں روایتی مسلم طرز کے سر ڈھانپنے والے لباس، جن میں حجاب اور برقع شامل ہیں، پہننے پر پابندی ہو گی۔
نئے قانون کے تحت اگر اساتذہ کسی طالبہ کو حجاب پہنے ہوئے دیکھیں گے تو انہیں پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے طالبہ اور اس کے قانونی سرپرستوں کے ساتھ کئی مراحل میں بات چیت کرنا ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: زیادہ پیٹرول استعمال کرنے والوں کیلئے قیمتوں میں دگنا اضافہ
خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں متعلقہ حکام کو بچوں کی بہبود سے متعلق خدمات کو مطلع کرنا ہو گا، جبکہ آخری اقدام کے طور پر سرپرستوں 800 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
قدامت پسند آسٹرین پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی وزیرِ انضمام کلاڈیا باؤر کا کہنا ہے کہ حجاب جبر کی علامت اور بچپن ہی سے بچیوں کو قابو میں رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔
ناقدین کے مطابق نیا قانون ملک میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو ہوا دے رہا ہے جو ممکنہ طور پر آئین سے متصادم ہو سکتا ہے۔