ایران کا 3 آئل ٹینکرز اور 3 امریکی حمایت یافتہ بحری جہازوں پر حملہ
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی فورسز نے پہلے 3 ایرانی تیل بردار جہازوں پر حملہ کیا اور انہیں نقصان پہنچایا، جس کے بعد ایرانی بحریہ نے جوابی کارروائی کی۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی کوشش نہ کریں۔ پاسداران انقلاب نے بحری جہازوں کو امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلے ہونے کے دعووں پر اعتماد نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
ایرانی بحریہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جس کے باعث خطے میں تجارتی بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال مکمل طور پر بحال کرنے کیلئے امریکی بحری اور اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہے۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں جاری جارحانہ کارروائیاں مستقل طور پر ختم کی جائیں، جس کے بعد ہی آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی ممکن ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:ائیرشو کے دوران یونانی جنگی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا
ذہن نشین رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔