ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، نقشہ بھی جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ پوسٹ کیا جس میں ایران اور عمان کے درمیان واقع اس اہم آبی گزرگاہ کے گرد دائرہ بنا کر اس پر’’ نیا امریکی علاقہ‘‘ تحریر کیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اس تصویر کے ساتھ کوئی کیپشن تحریر نہیں کیا تھا تاہم اس تصویر جس میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ لکھا گیا ہے کو شیئر کرنا ثابت کرتا ہے کہ امریکی صدر کے عزائم کیا ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے ایک روز قبل بھی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’’ایک زبردست خیال‘‘ ہے۔
گزشتہ ہفتے صحافیوں نے جب ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی بات سے کیا مراد لیتے ہیں تو امریکی صدر نے جواب دیا تھا کہ میرا مطلب ہے کہ ہم اسے کنٹرول کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیمبرج نے او لیول جون 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا
انھوں نے مزید کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو ایران کی بحری ناکہ بندی کنٹرول کرتا ہے اور انھیں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا خیال پسند ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کو بھی کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا آبنائے ہرمز کا ’’مالک‘‘ ہے تاہم ماہرین کے مطابق حقیقت اس سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی تقریباً 50 کلومیٹر چوڑی اہم آبی گزرگاہ ہے جس کے شمالی حصے میں ایران اور جنوبی جانب عمان واقع ہے۔ اس کے بعض حصے ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ ایران اور نہ ہی امریکا اس پوری آبی گزرگاہ پر مطلق قانونی ملکیت کا دعویٰ کرسکتا ہے جبکہ بین الاقوامی بحری قوانین کے تحت جہازوں کو گزرنے کے حقوق حاصل ہیں۔