امریکا کا ایران میں بڑا فضائی آپریشن، متعدد شہروں میں دھماکے
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر حملے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔
سینٹکام کے مطابق امریکی فضائیہ نے ایران کے اہم مقامات بشمول بوشہر، بندر عباس اور قشم جزیرے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اہواز، آبادان، ابو موسیٰ اور کیش سمیت مختلف علاقوں میں بھی دھماکوں اور فضائی حملوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کیخلاف یہ فضائی کارروائیاں آئندہ دو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، اگرچہ امریکی حکومت نے اس حوالے سے کسی مخصوص مدت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، آئندہ چند روز خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی مزید سخت کر دی گئی ہے، کارروائی کے دوران 20 تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا، تاہم اس دعوے پر ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوگیا
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔