ایران نے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملہ کر دیا
بحرین نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے آج صبح اس کی سرزمین پر متعدد ڈرون حملے کیے، جن کا ہدف امریکی فوجی تنصیبات تھیں۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں میزائل، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور ریڈار تنصیبات پر فضائی حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔
بحرین حکومت کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون حملے ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہیں، بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا صدر دفتر قائم ہے، جس کے باعث اسے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک بڑے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ایران نے چار بحری جہازوں پر میزائل حملے کیے، جن میں سے تین میزائل امریکی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیے، جبکہ ایک میزائل ایک جہاز سے ٹکرا گیا۔
ان الزامات کے بعد امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مراکز، ساحلی ریڈار اور نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، امریکی فوج نے ان حملوں کی باضابطہ تصدیق بھی کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ملکی فضائی دفاعی نظام نے امریکی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، تاہم جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں ایک گولہ گرنے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ان حملوں کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں تیل سستا ہوگیا
دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سامنے آنے والی یہ نئی کشیدگی نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو پورے خطے کی سلامتی ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔