ایران نے نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا
ایرانی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اس پابندی کا اطلاق تمام تیل بردار اور تجارتی جہازوں پر بھی ہوگا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ پابندی کے نفاذ کے بعد آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ آزاد ذرائع سے بھی ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذہن نشین رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، جس کے باعث اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے ایران پر ایک بار پھر حملہ کر دیا
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
بین الاقوامی برادری خطے کی بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ مختلف ممالک کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کے تحفظ کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔