ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکی تجاویز کا جواب دیدیا
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں پہلی ترجیح جنگ کے خاتمے کو دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پژشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مقصد قومی حقوق کی جنگ لڑناہے،سرتسلیم خم کرنا نہیں، دشمن کے سامنے جھکنا ہماری تاریخ نہیں، سفارتی کوششوں کا واحد مقصد ایرانی مفادات کا دفاع کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے باوجود بندرگاہوں کی غیرقانونی ناکہ بندی جاری ہے، ایرانی بندرگاہوں کی غیرقانونی ناکہ بندی وعدہ خلافی ہے، قوم کے تعاون سے تمام مشکلات پر قابو پایا جائے گا۔
ادھر ایران کی متحدہ فوجی کمانڈکے سربراہ علی عبداللہی نے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ علی خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ سیدمجتبیٰ علی خامنہ ای نے ایرانی فوجی سربراہ کو نئے رہنمائی اقدامات سے آگاہ کیا جبکہ علی عبداللہی نے آیت اللہ سیدمجتبیٰ علی خامنہ ای کو ایرانی فوج کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تیزی سے رو بصحت
فوجی کمانڈرعلی عبداللہی نے کہا کہ ایرانی افواج امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیارہے، دشمن کی طرف سے کسی بھی غلطی پر ایران کا ردعمل سخت ،تیز اور فیصلہ کن ہو گا۔
خبر ایجنسی کے مطابق سپریم لیڈر سے فوجی کمانڈر کی ملاقات کب ہوئی اس حوالے سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔