ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تیزی سے صحتیاب ہو رہے ہیں
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی منظرنامے سے غائب ہیں جبکہ ان کی سکیورٹی کو غیر معمولی حد تک سخت کر دیا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حملے کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں، جس کے باعث انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وہ اس وقت مکمل آرام کر رہے ہیں اور جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے پیغامات قاصدوں کے ذریعے متعلقہ حکام تک پہنچا رہے ہیں تاکہ سکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس خبر پر شدید بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روس نے ایران کیلئے آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ کھول دیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو ایران کی داخلی سیاست اور خطے کی مجموعی صورتحال پر اس کے اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سکیورٹی سے متعلق خبروں پر عالمی میڈیا کی گہری نظر ہے۔