نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے اچھی خبر ہے، ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہو سکتا ہے، فوج کو ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج کو کہا ہے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھی جائے، پاکستان اب بھی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھا رہے ہیں جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کرتا۔
قبل ازیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قائدین اور نمائندوں کی طرف سے متفقہ تجویز پیش ہونے تک حملہ نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق بھی بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرنا چاہتا بلکہ کھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ یومیہ 500 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کر سکے، یہ راستہ بند ہونے سے ایران کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہاہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران صرف سیاسی وقار بچانے کے لیے آبنائے ہرمز بند کرنے کی بات کرتا ہے جبکہ حقیقت میں امریکہ نے اس اہم بحری راستے کو مکمل طور پر ناکہ بندی میں لے رکھا ہے، چند روز قبل بعض افراد نے رابطہ کر کے بتایا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا پاکستان کی درخواست پر ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان
امریکی صدر نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ رہا ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران نے نہ صرف امریکیوں بلکہ دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی نقصان پہنچایا اور عالمی قیادت کو مسلسل چیلنج کرتا رہا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے، بحری اور فضائی طاقت کمزور ہو چکی ہے جبکہ دفاعی نظام بھی مؤثر نہیں رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران کو مالی فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹنگ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اخبار اپنا راستہ کھو چکا ہے۔