غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہوتے رہے تو ترکیہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائے گا،ترکیہ جس طرح لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوا اسی طرح اسرائیل میں بھی داخل ہوسکتا ہے، اس کے لیے طاقت اور اتحاد کی ضرورت ہو گی۔
طیب اردوان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خون اور نفرت میں اندھے ہو چکے ہیں، جنگ بندی کے دن بھی اسرائیل نے سیکڑوں بےگناہ لبنانی قتل کر دیے۔
ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل آگ سے کھیلنا بند کرے ورنہ عبرتناک سبق سکھائیں گے، اسرائیل امن عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے باز رہے، لبنان اور ایران پر کوئی بھی حملہ ترکیے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ میں 11 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان
ان کا کہنا تھا کہ علاقائی امن کو سبوتاژ کرنے کی قیمت اسرائیل کو چکانا پڑے گی، مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر اسرائیل پر حملہ ہمارا فرض ہے، اگر پاکستان ثالِثی نہ کر رہا تو ہم کب کا یہ قدم اٹھا چکے ہوتے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب ایردوان کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے متعلق ان کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیل ایران اور اس کے علاقائی ہم نواؤں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔