اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ میں 11 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان
ایران کے خلاف حالیہ جنگ نے اسرائیل کو 11 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچایا جس نے سرکاری خزانے پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔
فائل فوٹو
تل ابیب: (ویب ڈیسک) ایران کے خلاف حالیہ جنگ نے اسرائیل کو 11 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچایا جس نے سرکاری خزانے پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق جنگی اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 11 ارب 52 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جن میں دفاعی مد میں ہونے والے بھاری اخراجات سرفہرست ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اربوں ڈالر ہتھیاروں، فوجی آپریشنز، پروازوں کے گھنٹوں، ریزرو اہلکاروں کی تعیناتی اور جنگ کے دوران ہونے والے مختلف نقصانات پر خرچ ہوئے۔

ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ صرف ابتدائی تخمینہ ہے، جبکہ اس میں ابھی تعمیرِ نو، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور جنگ کے باعث معیشت کی سست روی سے ہونے والے بڑے نقصانات شامل نہیں کیے گئے، یعنی اصل مالی بوجھ اس سے کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے اسلام آباد میں ملاقات اچھی رہی، بیشتر نکات پر اتفاق ہو گیا، ٹرمپ

اسرائیلی وزارت خزانہ نے دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید 2.3 ارب ڈالر اضافی مختص کیے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے اثرات اب بھی ختم نہیں ہوئے۔

دوسری جانب جائیداد ٹیکس کے تحت 3.8 سے 4.2 ارب ڈالر تک معاوضے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ان شہریوں اور کاروباری اداروں کو دیا جائے گا جو جنگ سے متاثر ہوئے۔

یوں ایران کے خلاف یہ جنگ اسرائیل کے لیے صرف عسکری نہیں بلکہ ایک گہرا معاشی امتحان بھی بن گئی ہے، جس کے اثرات آئندہ بجٹ اور ملکی معیشت پر دیر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔