ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی، تاہم حتمی پیش رفت کیلئے باہمی اعتماد ناگزیر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال، جوہری پروگرام، جنگی ہرجانے اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے حساس امور زیر غور آئے۔
ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ ایران کیخلاف جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور تمام تنازعات کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ دوسرا فریق غیر ضروری اور غیرقانونی مطالبات سے اجتناب کرے اور ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرے، بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران ہمیشہ سے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے، تاہم یکطرفہ شرائط کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں:کسی نتیجے پر نہیں پہنچے، بغیر ڈیل واپس جارہے ہیں، جے ڈی وینس
ایرانی حکام کے مطابق اگر مخالف فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو مثبت پیش رفت ممکن ہے، بصورت دیگر مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار رہ سکتا ہے، انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ انصاف پر مبنی مؤقف اپنائے اور خطے میں استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔