64 سالہ قالیباف نہ صرف ایرانی سیاست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں بلکہ ماضی میں مختلف اہم عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔
محمد باقر قالیباف اپنے کیریئر کے آغاز میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر رہے، جس کے بعد انہوں نے شہری انتظامیہ میں قدم رکھا اور 2005 سے 2017 تک تہران کے میئر کے طور پر خدمات انجام دیں، بطور میئر انہوں نے شہر میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی روابط کو بھی فروغ دیا اور عالمی سطح پر ایران کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
قالیباف چار مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں، جن میں 2005، 2013، 2017 اور 2024 شامل ہیں، تاہم وہ کسی بھی بار کامیابی حاصل نہیں کر سکے، انہوں نے تربیتِ مُدارس یونیورسٹی سے سیاسی جغرافیہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، جو ان کے علمی پس منظر کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
حالیہ دنوں میں قالیباف اپنی بے باک سوشل میڈیا سرگرمیوں کے باعث بھی خبروں میں رہے ہیں، جہاں وہ اکثر طنزیہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، ماضی میں انہوں نے عالمی اقتصادی فورم جیسے پلیٹ فارمز پر شرکت کرتے ہوئے مغرب سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:'ایران مذاکرات کیلیے خیرسگالی کیساتھ آیا لیکن امریکا پر اعتماد نہیں'
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قالیباف کی شخصیت ایران کی داخلی اور خارجی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اور ان کی موجودہ سفارتی سرگرمیاں خطے کی سیاست پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔