امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی سٹیووٹکوف ،صدر ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈکشنر پاکستان آئیں گے، ایرانی وفد وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں مذاکرات میں شرکت کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور نائب امریکی صدر کے سیاسی تجربے اور سفارتکاری کا جائزہ لیا جائے تو:
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس 1984 میں پیدا ہوئے، 2022 میں انہوں نے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور ری پبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کی، اس سے قبل 2016 میں وہ ٹرمپ مخالف مہم میں متحرک دکھائی دیے۔
اس وقت وہ امریکا کے نائب صدر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور ایک نئی سیاسی ذمہ داری کے طور پر ایران کیساتھ مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیساتھ مذاکرات کے منتظر ہیں: امریکی نائب صدر
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 1962 میں آنکھ کھولی، 1979 میں انہوں نے ایران کی پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی جبکہ 1996 میں وزارت خارجہ کے دوران پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔
عباس عراقچی سنہ 2000 کی دہائی میں ایرانی جوہری مذاکرات کا بھی حصہ رہے، 2015 میں وہ جواد ظریف کی مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے اور پھر 2015 میں جوہری معاہدہ ہوا۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے عباس عراقچی دہائیوں کا سفارتی تجربہ رکھتے ہیں۔
امید ظاہر کی جارہی ہے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے اور مستقل جنگ بندی کا راستہ ہموار ہو گا۔