شہر بھر میں آج سے شروع ہونے والے میٹرک امتحانات کے دوران متعدد طلبہ کے امتحانی مراکز ایڈمٹ کارڈز جاری ہونے کے بعد تبدیل کر دیے گئے، بعض کیسز میں یہ تبدیلیاں امتحان سے ایک روز قبل کی گئیں جس کے باعث کنفیوژن اور بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی۔ والدین نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتظامی نااہلی قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کئی طلبہ کو اپنے نئے امتحانی مراکز کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں مل سکی، جس کے باعث انہیں امتحانی دن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب ایڈمٹ کارڈز کے اجرا اور آن لائن دستیابی میں بھی مسائل سامنے آئے، جس پر صوبائی وزیر تعلیم سندھ اسماعیل راہو نے نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم بی بی ایس سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان
وزیر تعلیم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، ساتھ ہی تین روز کے اندر تفصیلی وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔
ادھر ناظم امتحانات کا کہنا ہے کہ تمام امتحانی انتظامات مکمل ہیں اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کمشنر آفس میں مانیٹرنگ سیل قائم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ سیکیورٹی کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں سائبر سیکیورٹی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر پیپر لیک سے متعلق کسی بھی سرگرمی پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ امتحانات کی شفافیت متاثر نہ ہو۔ ناظم امتحانات کے مطابق اگر کوئی طالب علم پہلے روز اپنے مقررہ مرکز تک نہ پہنچ سکے تو وہ قریبی امتحانی مرکز میں بھی امتحان دے سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود امتحانات کے شفاف اور منظم انعقاد کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔