برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر تیل بردار جہاز سے فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم اس ٹیکس کی ادائیگی روایتی کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل کرنسی، جیسے بٹ کوائن میں کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان نازک جنگ بندی برقرار ہے۔
ایران کی آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی کے مطابق تہران اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کی سخت نگرانی کرے گا، ہر جہاز کو گزرنے کی اجازت دینے سے قبل اس کے سامان کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جنگ بندی کے دوران اس راستے کو ہتھیاروں کی ترسیل کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔
مجوزہ نظام کے تحت جہازوں کو اپنی کارگو تفصیلات ای میل کے ذریعے ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد ٹیکس کا تعین کیا جائے گا اور متعلقہ کمپنیوں کو مختصر وقت میں ادائیگی کرنے کی ہدایت دی جائے گی، اس عمل کے باعث جہازوں کی روانگی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
اس وقت خلیجی پانیوں میں تقریباً 400 بحری جہاز اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہیں، جسے ماہرین نے ایک بڑی پارکنگ لاٹ سے تشبیہ دی ہے۔
دوسری جانب عالمی جہاز رانی کمپنی میرسک نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور فی الحال معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کیلئے تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی نائب صدر اور ایرانی اعلیٰ شخصیات آج پاکستان پہنچیں گی
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اقدام عالمی تیل منڈی، بحری تجارت اور ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
اگر یہ منصوبہ نافذ ہو گیا تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہو سکتی ہے۔