بائیک اور سکوٹر مالکان کیلئے ایک اور ریلیف
خیبر پختونخوا حکومت
حکومت نے بائیک اور سکوٹر مالکان کے لیے احساس فیول سپورٹ اسکیم کے ساتھ ملکیت منتقلی فیس بھی معاف کی/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بائیک اور سکوٹر مالکان کے لیے احساس فیول سپورٹ اسکیم کے ساتھ ملکیت منتقلی فیس بھی معاف کر دی۔

اس اقدام کا مقصد پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے باعث عام شہریوں پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اسکیم خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو سہارا فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے، جو روزمرہ آمد و رفت کے لیے موٹر سائیکل یا سکوٹر پر انحصار کرتے ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس اسکیم کے تحت سبسڈی کی رقم براہِ راست اہل افراد کو جاز کیش کے ذریعے منتقل کی جائے گی، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کی بدعنوانی یا تاخیر سے بچا جا سکے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ درخواست دہندہ کے نام پر بائیک یا سکوٹر رجسٹرڈ ہو اور اس کی ملکیت کی مکمل تصدیق ہو۔

حکومت نے اس ضمن میں ایک اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ملکیت کی منتقلی کی فیس بھی مکمل طور پر معاف کر دی ہے، جس سے وہ افراد بھی فائدہ اٹھا سکیں گے جو ابھی تک اپنی گاڑی اپنے نام منتقل نہیں کرا سکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران، امریکا جنگ بندی: تیل کی قیمتیں گر گئیں

رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے حکومت نے دستک ایپ متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے صارفین گھر بیٹھے اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ صارفین کو ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا، جس کے بعد بائیک یا سکوٹر کی مکمل تفصیلات درج کرنی ہوں گی۔ اس کے ساتھ قومی شناختی کارڈ اور گاڑی کے کاغذات اپلوڈ کرنا لازمی ہوگا، جبکہ بائیو میٹرک ویریفکیشن کے ذریعے شناخت کی تصدیق بھی کی جائے گی۔

حکام کے مطابق جب درخواست دہندہ کی تمام معلومات کی تصدیق مکمل ہو جائے گی تو اسے 8558 نمبر سے ایک تصدیقی پیغام موصول ہوگا، جس میں 2000 روپے سبسڈی کی اطلاع دی جائے گی۔ اس کے بعد یہ رقم قریبی جاز کیش سینٹر سے آسانی کے ساتھ وصول کی جا سکے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم نہ صرف فوری ریلیف فراہم کرے گی بلکہ عوامی فلاح کے وسیع تر منصوبے کا حصہ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس اسکیم پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے گی۔