ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ حالات میں امن کی بحالی کیلئے کیا گیا ہے۔
ایران نے اس موقع پر پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ، جن کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بھی 2 ہفتوں کیلئے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں دوبارہ سے شروع ہوسکیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران پر حملے مکمل طور پر روک دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی، جنگ بندی مذاکرات کی بنیاد پر کی گئی، اس دوران بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی درخواست پر ٹرمپ نے جنگ بندی قبول کرلی
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کی درخواست پر ایران کیخلاف ممکنہ کارروائیوں کو دو ہفتوں کیلئے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔