چین اور روس نے آبنائے ہرمز کھلوانے کی قرارداد کو ویٹو کردیا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے آبنائے ہُرمز کھلوانے کی قرارداد ویٹو کردی۔
فائل فوٹو
جنیوا: (سنو نیوز) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے آبنائے ہُرمز کھلوانے کی قرارداد ویٹو کردی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقدام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں بحرین کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کی قرار داد پیش کی گئی جسے چین اور روس نے ویٹو کر دیا۔

ووٹنگ کے دوران 11 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا، چین اور روس نے قرار داد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 2 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

سلامتی کونسل کے 10 دیگر غیر مستقل اراکین میں بھی قرارداد کے مسودے پر اختلافات پائے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر قرارداد منظور ہوتی تو رکن ملکوں کو آبنائے ہُرمز کھلوانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی اجازت ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے اہم شرط عائد کر دی

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیاکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ووٹنگ جیسے اقدامات صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنادیں گے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز 28 فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے بعد سے بند ہے جس کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کا بحران گھبیر ہوتا چلا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے واضح شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نقصانات کے ازالے تک گزرگاہ بحال نہیں کی جائے گی، ایرانی صدر دفتر کے مطابق معاوضہ ملنے کے بعد ہی پیش رفت ممکن ہوگی۔

ذہن نشین رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔