امریکی صدر ڈونلڈر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج رات پوری تہذیب کو ایسے دفن کیا جائے گا کہ دوبارہ جنم نہیں لے سکے گی،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن ایسا ضرور ہو گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران میں جنگ کےفوجی مقاصد پورے ہو چکے ہیں، چاہتے ہیں ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہ بنا سکے، فیصلہ ایران کو کرنا ہے کہ نارمل ملک بنے یا دہشت گردوں کا ملک۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں خدا کس کی طرف ہے یہ میرا سوال نہیں ہے، دعاکرنی چاہیے کہ ایران کےہاتھ ایٹمی ہتھیار نہ آجائیں، ایران پوری دنیا کو معاشی طور پر نقصان پہنچانا چاہتا ہے، صدرٹرمپ اور میں نہیں چاہتے عالمی معیشت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے ایران کو مذاکرات کی بہت جلدی تھی، اب ایران کی جانب سے مذاکرات میں تاخیری حربے آزمائے جا رہےہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے
نائب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ توانائی کے بحران سے وکٹراوربان بہترین طریقے سےنمٹ رہے ہیں، یورپ کےرہنماؤں کو ہنگری کے وزیراعظم سے سیکھنا چاہیے، امریکا اور ہنگری کے درمیان تعاون مزید بہتر ہو گا۔
دوسری جانب ایران کے عوام اور بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جنگی مجرموں کا دھمکیوں، تباہی کا شور بڑھانا ان کی بوکھلاہٹ ہے۔
ایرانی نائب وزیر کھیل نے عوام سے اپیل کی کہ ایرانی عوام بجلی گھروں پر انسانی زنجیریں بنا کر ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیں۔