ایران کا سعودی آئل تنصیبات پر حملہ، پاسداران انقلاب کی تردید
ایران نے سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملہ کر دیا جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔
فائل فوٹو
ریاض: (سنو نیوز) ایران نے سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملہ کر دیا جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں پٹرولیم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم ایران کی پاسداران انقلاب نے سعودی پٹرولیم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی پیٹرو کیمیکل تنصیبات پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا،سعودی عرب کے شہر الجبیل میں صرف امریکی فوجی تنصیبات اور کمپنیوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب پر حملے کی شدید مذمت کی ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ اہم تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مذمت کرتے ہیں، حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں، اس سے خطے کا امن و استحکام متاثر اور کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ مسلم دنیا کے جذبات پر حملہ ہے، ایران کا اقدام سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، پاکستان فریقین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ذرائع نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، سعودی عرب نے ہمیشہ دفاعی پوزیشن اختیار کی، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات مضبوط اور دیرینہ ہیں، مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہونی چاہیے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ توانائی تنصیبات پر حملہ عالمی معیشت کیلئے خطرہ بن سکتا ہے، ایران کے حملے سے مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو دھچکا لگا ہے، خلیجی ممالک کا تحمل ایران کے اقدامات پر سوالیہ نشان ہے، آئل تنصیبات پر حملہ عالمی توانائی سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے۔