امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کی اسرائیل کے ساتھ پالیسی میں اسٹریٹجک جھکاؤ ایک ایسے غیر رسمی نیٹ ورک کے زیرِ اثر تشکیل پایا جس میں جیفری ایپسٹین نے مبینہ طور پر مشاورتی کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پالیسی میں اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں اور انٹیلی جنس تعاون کو بڑھانے کی تجاویز شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ایپسٹین نے خود کو وائٹ ہاؤس تک رسائی رکھنے والا بااثر شخصیت ظاہر کیا اور مختلف عالمی شخصیات کے ساتھ روابط کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں اسٹیو بینن، ٹام بیرک اور جیرڈ کشنر جیسے نام بھی سامنے آئے ہیں جن سے مبینہ طور پر امبانی کے روابط قائم کروائے گئے۔
مزید برآں، یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپسٹین نے عالمی اداروں جیسے اٹلانٹک کونسل اور انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے نجی ملاقاتوں اور تقاریب کا اہتمام کیا تاکہ امبانی کی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط بنایا جا سکے۔
مالیاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک وقت میں اربوں ڈالر کے مالک سمجھے جانے والے انیل امبانی کے اثاثوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس پر ایپسٹین نے مبینہ طور پر ذاتی نوعیت کے مالی مشورے بھی فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی ٹریفک پولیس کا آن لائن ڈرائیونگ لائسنس سروسز متعارف
دستاویزی شواہد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مئی 2019 میں امبانی نے نیویارک میں ایپسٹین کی رہائش گاہ کا دورہ کیا جو بھارت کے عام انتخابات کے نتائج کے دن کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ یہ ملاقات ایپسٹین کی گرفتاری سے چند ہفتے قبل ہوئی تھی۔
رپورٹ میں 2016 کے رافیل طیارہ معاہدے اور 2017 میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافے کو بھی اسی مبینہ تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ لیک ہونے والی ای میلز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر رسمی اور متنازع ذرائع استعمال کیے گئے۔
حالیہ پیش رفت کے طور پر مارچ 2026 میں سامنے آنے والی اطلاعات کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے جبکہ امبانی کے اثاثوں کے منجمد کیے جانے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ان تمام دعوؤں اور الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی جبکہ متعلقہ فریقین کی جانب سے باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔