عرب میڈیا کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے میں ایرانی افواج کا کوئی کردار نہیں، اس واقعے کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، اس کے پیچھے دیگر قوتیں ملوث ہو سکتی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ یہ کارروائی ممکنہ طور پر صہیونی عناصر کی جانب سے کی گئی ہے، جس کا مقصد خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنا ہے۔
بیان میں مسلم ممالک کو خبردار کیا گیا کہ وہ ایسے واقعات کے پس منظر کو سمجھیں اور خطے میں پھیلائی جانے والی سازشوں سے ہوشیار رہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس مقصد کیلئے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، ایسی سرگرمیوں کے خلاف متحد ہو کر ردعمل دیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاسداران انقلاب نے امریکی جہاز گرانے کی ویڈیو جاری کر دی
دوسری جانب اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے واقعات پہلے ہی نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جس کے باعث فوری سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے۔