آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے برطانیہ نے ہنگامی اجلاس بلا لیا
Strait of Hormuz crisis
فائل فوٹو
لندن: (ویب ڈیسک) برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے 35 ممالک کا اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے، اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنا آسان نہیں ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر آج ایک ورچوئل اجلاس کی میزبانی کریں گی، جس میں مختلف ممالک جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کیلئے سفارتی اور سیاسی اقدامات پر غور کریں گے۔

کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ اجلاس میں پھنسے ہوئے جہازوں اور ان میں موجود عملے کی حفاظت یقینی بنانے اور تیل و گیس سمیت ضروری اشیاء کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کے طریقوں پر بات چیت ہو گی۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ اجلاس کے بعد فوجی ماہرین بھی سیکیورٹی اور بحری راستے کو محفوظ بنانے کے منصوبوں کا جائزہ پیش کریں گے۔

کیئر اسٹارمر نے اپنے حالیہ بیان میں بتایا کہ موجودہ کشیدہ صورتِ حال میں سفارتی کوششیں ضروری ہیں تاہم آبنائے ہرمز کی بحالی ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہو گا۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کیخلاف کارروائیوں اور ایران کے جوابی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔

یہ عالمی توانائی سپلائی کا اہم ترین راستہ ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔

بحری راستے کی بندش کے بعد عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ کئی ممالک نے بحران کم کرنے کیلئے اپنے اسٹریٹجک تیل اور گیس ذخائر استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی حملہ، سابق وزیرخارجہ کمال خرازی زخمی،اہلیہ شہید

بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدر لینڈز سمیت متعدد ممالک پہلے ہی محفوظ بحری گزرگاہ یقینی بنانے کیلئے تعاون پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے خود ہی عملی اقدام کریں، متاثرہ ممالک یا تو امریکا سے ایندھن خریدیں یا خود کارروائی کر کے راستہ کھلوا لیں۔