اپنے ایک بیان میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو اس جنگ کا حصہ نہیں بننے دیں گے، ایران امریکا جنگ ہماری جنگ نہیں، برطانیہ کسی صورت ایران امریکا جنگ میں شامل نہیں ہو گا، ایران جنگ سے ہمارے ملک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ سے دنیا کی معیشت تباہ ہو گئی ہے،میری پہلی اور آخری ترجیح برطانیہ ہے، چاہےکسی بھی دباؤ یا درخواست کا سامنا ہو،اس جنگ کاحصہ نہیں بنیں گے، برطانوی حکومت واضح اور پُرسکون قیادت فراہم کرنے پر توجہ دے گی۔
دوسری جانب یورپی ممالک کے رویے پر امریکی صدر نالاں دکھائی دیے، انہوں نے کہا کہ اتحادی ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دیا، وائٹ ہاؤس اب یورپ کو قابلِ اعتماد دفاعی شراکت دار نہیں سمجھتا، نیٹو کا اتحاد ایک کاغذی شیر ہے، ہم نیٹو سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپی فوجی اتحاد نیٹو سے نکلنے پر سنجیدگی سے غور کررہا ہوں ، آج قوم سے خطاب میں نیٹو پر لائحہ عمل دوں گا، یورپی ممالک اب امریکا کے دوست نہیں رہے ، جب ضرورت پڑی انہوں نے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ کے پاس تو بحریہ ہی نہیں، برطانیہ کے جہاز پرانے ہیں، ایئرکرافٹ کیریئرز بھی ٹھیک کام نہیں کرتے، جب ہمیں ضرورت پڑی تو ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، ہم ہمیشہ دوسروں کےلیے کھڑے رہے۔