ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملہ اسرائیلی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے نتیجے میں سفارت خانے کے کمپاؤنڈ کے مشرقی حصے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ عمارت کے دیگر حصوں کی صورتحال کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ تہران میں واقع یہ عمارت نومبر 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد طلبہ کے قبضے میں چلی گئی تھی، جس کے بعد اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ مقام پاسدارانِ انقلاب اور بسیج سے وابستہ اداروں کے زیرِ استعمال رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ عمارت ایک علامتی اہمیت بھی رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فوجی طیارہ حادثے کا شکار، 29 افراد ہلاک
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورتحال عالمی امن کیلئے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔