رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والا طیارہ ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) سے لیس تھا، جو جدید ریڈار ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکڑوں میل دور تک دشمن طیاروں اور ڈرونز کی نقل و حرکت کا پتہ لگا سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے طیارے کسی بھی جنگی صورتحال میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ یہ فضائی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور بروقت معلومات فراہم کرنے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
سابق امریکی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس طیارے کی تباہی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو خلیج فارس کے خطے میں امریکی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات جاری کشیدگی پر بھی مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:جلد ہی ایران سے نکل جائیں گے: امریکی نائب صدر
اب تک امریکی یا سعودی حکام کی جانب سے اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے خطے میں فوجی اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔