ایران نے ہرمز کے راستے چین کو لاکھوں بیرل تیل پہنچایا
آبنائے ہرمز
جنگی صورتحال کے باوجود ایران کی جانب سے چین کو بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل جاری رکھنے کا دعویٰ کر دیا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک) امریکی میڈیا نے جنگی صورتحال کے باوجود ایران کی جانب سے چین کو بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل جاری رکھنے کا دعویٰ کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے 11.7 سے 12 ملین بیرل خام تیل آبنائے ہرمز کے راستے چین کو بھیجا۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خطرے کے باوجود ایرانی تیل بردار جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی اور تیل کی سپلائی مسلسل جاری رہی۔

رپورٹس کے مطابق اس دوران کئی آئل ٹینکرز نے ممکنہ فوجی کارروائی یا نگرانی سے بچنے کے لیے اپنے ٹریکنگ سسٹمز بند کر دیے تاکہ ان کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنا مشکل ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے میزائل حملوں کی نئی لہر، امریکی و اسرائیلی مراکز نشانہ

امریکی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کے اطراف جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی اور سست روی دیکھی گئی ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث متعدد تیل بردار جہاز اور تجارتی ٹینکرز اس خطرناک سمندری راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم 10 جہازوں پر ایران کی جانب سے حملے کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اور خطے میں جاری کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
 

ضرور پڑھیں