غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے تناظر میں شپنگ کمپنیوں اور تیل کی صنعت کے نمائندوں کی جانب سے کی جانے والی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
ان درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو امریکی بحریہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ تیل اور دیگر تجارتی سامان کی محفوظ ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔
امریکی بحری حکام نے ایک بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ موجودہ حالات میں حملوں کا خطرہ انتہائی زیادہ ہے، جس کے باعث امریکی بحریہ اس وقت جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ خطے میں صورتحال مسلسل غیر یقینی ہے اور کسی بھی وقت مزید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
یہ موقف امریکی صدر کے اس سابقہ بیان سے مختلف نظر آتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو بحری تحفظ فراہم کرے گا تاکہ عالمی تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی وزیر دفاع کا نئے ایرانی سپریم لیڈر کو اہم پیغام
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل عارضی طور پر متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو عالمی توانائی کی منڈیوں پر اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔