ایرانی حملے میں نیتن یاہو کے بھائی کی ہلاکت کی خبریں زیر گردش
سوشل میڈیا پر یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے بھائی ایدو نیتن یاہو ایران کے میزائل حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
فائل فوٹو
تل ابیب: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے بھائی ایدو نیتن یاہو ایران کے میزائل حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ دو افراد شدید زخمی ہوئے، ایران کی جانب سے کلسٹر وار ہیڈ سے لیس میزائل اسرائیل کے وسطی علاقوں پر فائر کیے گئے، یہ رات گئے ایران کی جانب سے کیا جانے والا ساتواں میزائل حملہ تھا جبکہ شام کے وقت آٹھویں حملے کی بھی اطلاع دی گئی۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب تہران اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اس کلسٹر وار ہیڈ میزائل نے وسطی اسرائیل کے کم از کم چھ مقامات کو نشانہ بنایا جن میں یہود، اور یہودا، ہولون اور بات یام شامل ہیں۔

طبی حکام کے مطابق یہود کے ایک تعمیراتی مقام پر ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا جبکہ یہودا میں ایک اور شخص شدید زخمی ہو گیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک گھر میں آگ لگنے کا منظر دکھایا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اس واقعے میں ایدو نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم فیکٹ چیک ویب سائٹ لیڈ اسٹوریز نے اس دعوے کو غلط قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بحرین میں اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے والا بھارتی انجینئر گرفتار

لیڈ اسٹوریز کے مطابق یہ ویڈیو دراصل اس وقت اپ لوڈ کی گئی تھی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملے شروع بھی نہیں کیے تھے، ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو 9 فروری کو فیس بک پر اٹلانٹک کاؤنٹی فائر فائٹرز ایسوسی ایشن سے وابستہ ایک فوٹوگرافر نے پوسٹ کی تھی۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ آگ امریکا کی ریاست نیو جرسی میں لگی تھی اور اس میں ایک گھر کو نقصان پہنچا تھا، ویڈیو پر موجود عربی متن میں غلط طور پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو کا گھر جل رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی 28 فروری سے 9 مارچ 2026 کے درمیان شائع ہونے والی کسی بھی مستند رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایدو نیتن یاہو کسی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والے دعویٰ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ 

ضرور پڑھیں