امریکہ کیساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیا/فائل فوٹو
تہران (ویب ڈیسک): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا بہت تلخ تجربہ رہا، دوبارہ بات چیت ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں۔

امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے خود مذاکرات میں اہم پیشرفت کا اعتراف کیا پھر حملہ کردیا، مذاکرات کے 3 ادوار کے بعد خود امریکا نے کہا تھا اہم پیشرفت ہوئی ہے، امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے پورے خطے کو غیر محفوظ بنا دیا۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تیل کی پیداوار اور ترسیل میں رکاوٹ امریکا اور اسرائیل کی وجہ سے ہے، ہم پر جنگ مسلط کی گئی، ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، جنگ ہم پر مسلط کی گئی، ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، ہمیں غیر قانونی جارحیت کا سامنا ہے، ہمیں اپنے دفاع کا حق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاسدارانِ انقلاب کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مشروط اجازت

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو مشروط اجازت دیتے ہوئے کہا کہ صرف اُن ممالک کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی جو اپنے ملک سے امریکہ اور اسرائیل کے سفیروں کو ملک بدر کریں گے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی یا تیل کی ترسیل کو متاثر کیا تو اسے انتہائی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور امریکہ اس حوالے سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی بیان کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ تہران کرے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہے تو ایران خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دے گا۔
 

ضرور پڑھیں