امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں آئل ریفائنریوں اور ایندھن کے ڈپو پر ہونے والے حالیہ حملوں پر امریکا نے اسرائیلی وزیراعظم سے حیرت اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا کو توقع نہیں تھی کہ اسرائیل ایران میں ایک ساتھ تقریباً 30 ایندھن ڈپو کو نشانہ بنائے گا۔
خیال رہے کہ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کی تیل تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، اگر ایران کی توانائی کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل تنصیبات کی تباہی سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈرنامزد
رپورٹس کے مطابق امریکا اس معاملے پر اسرائیل سے بات چیت کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ماہربین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔