امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 450 کلوگرام یورینیم موجود ہے جس میں 60 فیصد تک افزودگی کی سطح ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی سرزمین پر یہ کارروائی ممکنہ طور پر امریکی فورسز یا امریکی اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی ٹیم کے ذریعے کی جا سکتی ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ مشن کب اور کس طریقے سے عمل میں لایا جائے گا، امکان ہے کہ یہ تب ہوگا جب ایران کی جانب سے خطرہ کم ہو جائے۔
دوسری جانب ایران نے کویت میں امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی کیے ہیں، ایران کے پاسداران انقلاب کے مطابق کویت کے عریفجان بیس میں امریکی ہیڈکوارٹر پر میزائل حملے کیے گئے، عریفجان بیس کویت میں امریکی افواج کی اہم فوجی تنصیب مانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی جانب سے فضائی کارروائی کے دوران پاکستانی جاں بحق
قبل ازیں ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں دو کویتی فوجی جاں بحق ہو گئے تھے جن میں عبداللہ عماد اور میجر فہد عبدالعزیز شامل ہیں۔
سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی ہے اور خطے میں کسی بھی غیر متوقع واقعے کے اثرات عالمی سکیورٹی کیلئے سنگین ہو سکتے ہیں۔