مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، ہزاروں افراد لاپتہ
بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کمی نہ آسکی۔
فائل فوٹو
سرینگر: (سنو نیوز) بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کمی نہ آسکی۔

راجیہ سبھا میں باضابطہ طور پر پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں صرف سال 2023 کے دوران 7 ہزار 151 افراد لاپتہ قرار دیے گئے، ان میں سے 2 ہزار 961 افراد کو اسی سال کے اندر تلاش یا بازیاب کر لیا گیا جبکہ 4 ہزار 190 افراد سال 2023 کے اختتام تک بدستور لاپتہ رہے۔

یہ قیاس آرائی پر مبنی اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ وہ اعداد ہیں جو خود بھارت کے پارلیمانی نظام میں تسلیم کیے گئے ہیں۔

گزشتہ چار برسوں کا رجحان مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے، سال 2020 میں آئی آئی او جے کے میں 5 ہزار 824 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے، 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر 6 ہزار 486 ہو گئی، سال 2022 میں یہ مزید بڑھ کر 6 ہزار 983 تک پہنچ گئی جبکہ سال 2023 تک یہ تعداد 7 ہزار 151 ہو گئی۔

اسی دوران لاپتہ رہ جانے والے افراد کی تعداد 2020 کے اختتام پر 3 ہزار 813 سے بڑھ کر 2023 کے اختتام تک 4 ہزار 190 ہو گئی، چار برسوں میں حل نہ ہونے والے لاپتہ افراد کے کیس کم نہیں ہوئے بلکہ بڑھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ کیلئے گیس بند کرنے پر غور کر سکتے ہیں، پیوٹن

یہ صورتحال جوابدہی سے متعلق بنیادی سوالات اٹھاتی ہے، جب ایک بھاری عسکری موجودگی والے خطے میں ہر سال ہزاروں افراد لاپتہ ہو رہے ہوں اور لاپتہ افراد کی زیر التوا تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہو تو ادارہ جاتی ذمہ داری ایک مرکزی مسئلہ بن جاتی ہے، اس کے باوجود اعداد و شمار کے حجم کے مطابق شفاف اور خودمختار تحقیقات یا مؤثر عدالتی نگرانی کے شواہد کم دکھائی دیتے ہیں۔

اتنا ہی اہم پہلو عالمی ردعمل کی کمزوری ہے، بڑے مغربی ممالک بھارت کے ساتھ تجارت، دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کو ترجیح دیتے رہتے ہیں، انسانی حقوق کے خدشات کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن انہیں مستقل سفارتی دباؤ کے ذریعے آگے نہیں بڑھایا جاتا۔

نتیجہ واضح ہے لاپتہ افراد کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار اور معاشی تعلقات میں وسعت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر کشمیری جانوں کو محدود اہمیت دی جا رہی ہے۔ 

ضرور پڑھیں