روسی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین روسی گیس اور ایل این جی کی درآمدات پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان توانائی کے تعلقات کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یورپ نے روسی گیس اور تیل پر مکمل پابندیاں عائد کیں تو روس کے پاس دیگر عالمی منڈیوں کا رخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
پیوٹن کے مطابق روسی توانائی پر پابندیاں عائد کرنا یورپی معیشت کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ کئی یورپی ممالک اب بھی روسی گیس پر انحصار کرتے ہیں، ماسکو پہلے ہی توانائی کی برآمدات کو متنوع بنانے کی پالیسی پر کام کر رہا ہے تاکہ یورپ پر انحصار کم کیا جاسکے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ کی جانب سے روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کی پالیسی کے باعث ماسکو نے چین، ایشیائی ممالک اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی جانب اپنی توجہ بڑھا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بحیرہ ہند میں امریکی آبدوز کا ایرانی جہاز پر حملہ، 87 افراد شہید
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس یورپ کو گیس کی سپلائی محدود یا بند کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں گیس اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال، پہلے ہی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن رہی ہے، جبکہ روس اور یورپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرسکتی ہے۔