آبنائے ہرمز کی بندش سے علاقائی تجارتی راستے متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
یہ تجاویز ایک قومی ایکشن پلان کا حصہ ہیں جس پر کابینہ کی ایک کمیٹی غور کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور قیمتوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مقامی ایندھن کی مارکیٹ کو مستحکم رکھنا ہے خاص طور پر اس وقت جب ڈیزل کی ترسیل، بالخصوص کویت سے آنے والے طویل مدتی کارگو، خلیجی بحری راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان نگہبان پیکج کامیابی سے جاری ہے: عظمیٰ بخاری
اگرچہ پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً چار ہفتوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے، تاہم حکام غیر ضروری استعمال کو کم کرنے اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ورک فرام ہوم کے علاوہ پالیسی ساز توانائی کی طلب کو کم کرنے کے دیگر اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں اور متبادل سپلائی راستوں کی تلاش جاری ہے جن میں بحیرہ احمر اور خلیجی خطے کی بندرگاہیں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی فوری قلت نہیں ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر عالمی شپنگ میں خلل جاری رہا تو ایندھن کے تحفظ اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مربوط اقدامات انتہائی اہم ہوں گے۔