غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ جہاز بھارت میں ہونے والی انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا اور بھارت اور سری لنکا کے ساحلوں کے قریب موجود تھا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ایرانی جہاز ڈبونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بحیرۂ ہند میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو امریکی افواج نے نشانہ بنایا اور اسے ڈبو دیا، یہ کارروائی امریکہ کی فوجی حکمت عملی کے تحت کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جنگی جہاز کو لگتا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ رہے گا لیکن ایسا نہیں تھا۔
دوسری جانب سری لنکن وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایرانی جہاز آئرس ڈینا کے ڈوبنے کی اطلاع پر اس کے عملے کو ریسکیو کرنے کے لیے سری لنکن بحریہ کو روانہ کیا گیا تاہم جب تک امدادی جہاز حادثے کے مقام پر پہنچا ایرانی جنگی جہاز ڈوب چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ، ایران کا 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
سری لنکن وزارت خارجہ کے مطابق جہاز سے 32 زخمی سیلرز کو نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ نے ایرانی بحری جہازپر امریکی حملے میں 87 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
خیال رہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86 ویں بیڑے کا حصہ تھا۔ یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔
نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔
یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔