ایرانی فوج کی جانب سے بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارڑ اور فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں 160 امریکیوں کے ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعدادا 787 ہوگئی جب کہ ایران کے اسرائیل سمیت عرب ممالک میں قائم امریکی بیسز اور سفارت خاںوں پر حملے جارہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پیش کیے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی بیسڈ تنظیم کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران میں 742 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 176 بچے ہیں۔
ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملہ کر دیا جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 16ویں لہر شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب اسلامی کے مطابق اسرائیل کی جانب بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں، جن کا ہدف مخصوص عسکری اور اسٹریٹیجک مقامات بتائے جا رہے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز بھی اسرائیل کی سمت روانہ کیے گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب زور دار دھماکوں کے بعد آگ اور دھویں کے بادل دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 2 سفارتخانے بند کرنے کا اعلان
عرب میڈیا کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ کا قونصل خانہ دبئی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ آسمان پر سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے، حالانکہ تہران مذاکرات کا خواہاں ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت سب ختم ہوچکا، اب وہ بات کرنا چاہتے ہیں جس پر میں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے مشرقی شہر ظہران پر ممکنہ اور قریب الوقوع میزائل یا ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔ اس شہر میں امریکی قونصل خانہ موجود ہے، جہاں سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔
ایرانی ڈرونز نے منگل کے روز ریاض میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا، جس سے معمولی نقصان ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ اس سے قبل کویت میں امریکی مشن کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ واشنگٹن نے ردعمل میں ان مشنز کو بند کر دیا اور غیر ہنگامی سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک سے نکلنے کا حکم دے دیا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ اور اسرائیل سے اپنی فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، انہیں جنگ روکنی ہوگی، جنگ ہم نے شروع نہیں کی، یہ فوجی جارحیت ہمارا انتخاب نہیں تھا، ہمارا انتخاب سفارت کاری تھا۔
سعودی حکام نے کہا ہے کہ ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں محدود آگ لگی اور معمولی نقصان ہوا۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کے تقریباً پانچواں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔
ایران نے خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی قطر انرجی نے اپنی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔