ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیج فارس میں امریکا کے سب سے بڑے ریڈار پر ایرانی میزائل حملے سے ریڈار کو شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی ریڈار پورے مشرق وسطیٰ کی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور قبل از وقت وارننگ کے لیے استعمال ہوتا تھا، امریکی ریڈار کی رینج پانچ ہزار کلومیٹر تک اور مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔
ادھر متحدہ عرب امارات میں ڈرون کے گرنے والے ملبے سے اماراتی شہر فجیرہ میں موجود آئل فیلڈ میں آگ لگ گئی،متحدہ عرب امارات کے مطابق اب تک 800 سے زیادہ ڈرونز اور 200 میزائلوں سے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ مارات اپنی فضائی حدود ایران پر حملے کیلئے استعمال نہ ہونے دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں امریکی مشن کی تمام سرگرمیاں بند
امارات کی وزیرمملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات اپنی فضائی حدود ایران پر حملے کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا، ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام خطے کے لئے خطرہ ہے، امارات کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
اماراتی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں،کشیدگی کے باعث خطےکو نقصان پہنچے گا ایرانی حملوں پر احتجاجاً تہران میں اماراتی سفارتخانہ بند کر کےسفیر کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
دوسری جانب اماراتی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ عرب امارات حالت جنگ میں ہے، اماراتی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں، اماراتی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔