ذرائع کے مطابق ڈرون حملے کے نتیجے میں ریفائنری کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا۔
راس تنورا کی یہ ریفائنری سعودی آرامکو کی سب سے اہم تنصیبات میں شمار ہوتی ہے۔ سعودی آرامکو دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنیوں میں شامل ہے جس کی مالیت تقریباً تین ٹریلین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ یہ کمپنی عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی میں نمایاں حصہ رکھتی ہے، اسی لیے اس نوعیت کا حملہ عالمی توانائی کے نظام پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقی وسطیٰ کشیدگی، اسٹاک مارکیٹ لڑکھڑا گئی
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی خطے میں امریکی اور اتحادی ممالک کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں، جس کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے حالیہ پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ خطے میں حملوں کا سلسلہ تشویشناک ہے اور ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہیں۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آرامکو جیسی اہم تنصیبات پر حملے کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال کو جنم دے سکتے ہیں۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو توانائی کی عالمی رسد متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں، اور آنے والے دنوں میں حالات کس سمت جاتے ہیں اس پر عالمی منڈیوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔