امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی حملوں میں 48 ایرانی رہنما جاں بحق ہوئے ہیں،جو ہم نے کامیابی حاصل کی ہے اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا،ایک ہی حملے میں 48 رہنماؤں کو مارنا کوئی عام بات نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی نئی لیڈر شپ مجھ سے بات کرنا چاہتی ہے اور وہ بات چیت کے لئے منصونہ بندی کر رہے ہیں، ایرانی لیڈرشپ مجھ سے بات کرنے کی خواہاں ہے اور میں نے بات چیت کی حامی بھر لی ہے، میں نئی ایرانی لیڈر شپ سے بات کروں گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے بہت جلد بات چیت شروع ہو گی، ایران کو یہ کام پہلے کر لینا چاہیے تھا جو کہ بہت آسان تھا، مذاکرات میں شامل کچھ ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں، ہم نے بہت زیادہ انتظار کیا مگر وہ زیادہ ہوشیاری دکھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ شہید، ایران کی تصدیق
ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ نہ کرتے تووہ 2ہفتوں میں جوہری ہتھیار بنا لیتا، کسی چیز کے بارے میں فکر مند نہیں، چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں، میں بس وہی کرتا ہوں جو درست ہے۔
قبل ازیں ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران میں احکامات کون جاری کر رہا ہے، ہمارے اڈوں پر ایرانی حملوں کی شدت توقعات سے کم تھی، ایران کے مسئلے کا سفارتی حل اب پہلے سے زیادہ آسان ہوگا۔