میدویدیف نے ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملوں کے پس منظر میں جاری کردہ بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تمام مذاکرات محض ایک پردہ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی شک نہیں تھا کہ مذاکرات کی اصل میں سنجیدہ نیت موجود نہیں تھی، یہ سب عالمی منظرنامے پر اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کا جواز فراہم کرنے کیلئے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایک نسبتاً نوجوان ملک ہے جس کی عمر تقریباً 249 سال ہے، جبکہ ایران کی تاریخی فارسی سلطنت کی بنیاد دو ہزار سال قبل رکھی گئی تھی۔
میدویدیف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دیکھتے ہیں 100 سال بعد دنیا کس صورت حال میں ہوگی اور تاریخ کس کے حق میں فیصلہ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے خلیجی ممالک پر حملے، سعودی عرب کی سخت مذمت
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ میدویدیف کا یہ بیان عالمی تعلقات میں امریکا اور روس کے بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتا ہے، ایران کے ساتھ تعلقات پر امریکی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
روسی قیادت کے مطابق عالمی سطح پر طاقت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے ممالک کو سنجیدہ مذاکرات اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔
یہ بیان خاص طور پر اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے حوالے سے امریکی اور اسرائیلی اقدامات عالمی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔