ایران کا اسرائیل اور امریکا کو سخت جواب
ایران
ایران نے اسرائیل اور امریکا کی حالیہ کارروائیوں کے جواب میں سخت ردعمل دیا/ فائل فوٹو
تہران (ویب ڈیسک): ایران نے اسرائیل اور امریکا کی حالیہ کارروائیوں کے جواب میں سخت ردعمل دیتے ہوئے خطرناک میزائل حملوں کا آغاز کر دیا۔ ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ قطر میں العدید ایئربیس اور کویت میں السلیم ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں الدفرا ایئربیس اور بحرین میں بحری اڈے پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا، تاہم یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ اماراتی حکومت نے اس کارروائی کو قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود جزوی طور پر عارضی بند کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام پروازوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ائیرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ مسافروں کو رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا ایران پر حملہ، اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا

رپورٹس کے مطابق ایران نے بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دبئی کے علاقے مارینا میں بھی دھماکے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عراقی ہم منصب سے گفتگو میں کہا کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ نے اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے پہلے ہی وارننگ دی تھی اور اب حالات اس کے قابو میں نہیں رہیں گے۔

ادھر یمن کے حوثی گروپ نے بھی اسرائیل اور سمندری راستوں پر جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ابوظبی اور کویت میں بھی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ عالمی برادری اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
 

ضرور پڑھیں