اسرائیل کا ایران پر حملہ، اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا
اسرائیل
اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اہم اسٹریٹجک اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا/ فائل فوٹو
تہران (ویب ڈیسک): اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اہم اسٹریٹجک اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر دیا۔

 اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں کم از کم 30 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں تہران یونیورسٹی اور اس کے اطراف کے علاقے، انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر، عسکری تنصیبات، اور ایرانی صدر کی رہائش گاہ شامل ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مبینہ خفیہ دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں، مہرباد ایئرپورٹ پر بھی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مختلف شہروں میں سائرن بجوا دیے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی سے نمٹنے کے لیے فوج ہائی الرٹ پر ہے۔

ادھر امریکی میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بھی اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔ الجزیرہ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ حملوں میں شریک ہے۔ نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور اصفہان میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور طیارہ بردار جہازوں سے بھی ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے افغانستان کیخلاف پاکستان کی کارروائی کی حمایت کردی

 اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا اور ایران کے اندر موجود اہم حکمتِ عملی، انٹیلی جنس اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کو پری وینٹو آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ممکنہ خطرات کو پیشگی ناکام بنانا ہے۔

امریکی سفارتخانے قطر نے اپنے عملے کو سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات دی ہیں۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے جون میں ہونے والی کارروائیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ہو سکتے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق قم اور کرم آباد میں بھی مشترکہ حملے کیے گئے ہیں۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

 

ضرور پڑھیں