نیویارک کی سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی مقدمے میں واضح فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انسانی اعضاء نہ تو ازدواجی ملکیت ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں رقم کے عوض واپس لیا جا سکتا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر رچرڈ بتسٹا نے 2001 میں اپنی اہلیہ ڈانیل کی جان بچانے کے لیے اپنا گردہ عطیہ کیا تھا۔ بعد ازاں، شادی ختم ہونے پر انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گردہ ایک مشروط تحفہ تھا جو کہ کامیاب ازدواجی زندگی سے جڑا ہوا تھا اس لیے طلاق کی صورت میں اسے واپس کیا جانا چاہیے یا اس کی قیمت ادا کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں احتجاج خونی رخ اختیار کر گیا، ہزاروں افراد مارے گئے
شوہر نے عدالت میں گردے کی قیمت ڈیڑھ ملین ڈالر مقرر کرنے کی درخواست بھی دائر کی، تاہم عدالت نے اسے ناقابل قبول قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انسانی اعضاء کو ازدواجی اثاثہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی طلاق کی بنیاد پر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ انسانی اخلاقیات، طبی اصولوں اور ازدواجی تنازعات کے حساس پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے جہاں قانون نے واضح طور پر انسانیت اور اخلاقی اقدار کو فوقیت دی ہے۔