سابق سفیر کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای اب 86 برس کے ہوچکے ہیں اور صحت بھی ناساز ہے، اس لیے ایران کو ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ ڈان شپیرو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی بیان دیا کہ جلد امریکہ کا ایک بڑا بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں موجود ہوگا، جو ایران پر ممکنہ حملے کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ایران کے ردعمل کے دوران دفاعی تیاریوں میں بھی مدد دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایرانی فورسز پر مزید حملے کر سکتا ہے اور اس کے لیے ہر ممکن حکمت عملی تیار ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ڈان شپیرو سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے دور میں اسرائیل میں امریکی سفیر تعینات رہ چکے ہیں۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران میں تشدد، مظاہروں اور قتل میں امریکی صدر ملوث ہیں۔
سابق امریکی سفیر کے بیان کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر دوبارہ کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جرمنی جانے کے خواہشمند طلبا کیلئے خوشخبری
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعوے بین الاقوامی سیاسی منظرنامے میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں اور خطے میں صورتحال مزید نازک ہونے کا امکان ہے۔
Trump's comments to @politico on needing new leadership in Iran, and Khamenei's mindless baiting of Trump on X, lead me to believe that Trump is going to try to kill the Supreme Leader this week.
— Dan Shapiro (@DanielBShapiro) January 17, 2026
There will soon be a US carrier strike group in the Middle East, making it easier…
یہ واقعہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، دنیا بھر کی سیاسی اور سلامتی کی محافل میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔