انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، لیکن اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکی اور اسرائیلی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک ایران میں فسادات کیلئے لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں، کسی غیر ملکی کو ہمارے قوم میں انتشار کے بیج بونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تعلقات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، جس کیلئے ملاقات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف مختلف طاقتور آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں فوجی کارروائی سمیت دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر امریکی فوجی کارروائی ہو سکتی ہے، ٹرمپ کی وارننگ
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ بیانات عالمی سطح پر کشیدگی کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے سخت مؤقف اور امریکہ کے طاقتور آپشنز کے اشارے خطے میں سیاسی اور فوجی کشیدگی کے امکانات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی برادری کی کوششیں جاری ہیں کہ تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔