نکولس مادورو کون، اقتدار اچانک کیوں ختم ہوا؟
Nicolas Maduro
فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے تقریباً 12 برس تک حکومت کی، ان کی قیادت کا اچانک خاتمہ کاراکاس میں امریکی آپریشن کے بعد ہوا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو پر منشیات کے کارٹلز چلانے اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے تھے اور وہ کئی ماہ سے ان پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی۔

23 نومبر1962 کو ایک محنت کش گھرانے میں پیدا ہونے والے مادورو ایک ٹریڈ یونین رہنما کے بیٹے ہیں، وہ ہیوگو شاویز کی 1992 کی ناکام بغاوت کے دوران بس ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے اور بعد ازاں شاویز کی رہائی کے لیے مہم چلائی۔

مادورو شاویز کے بائیں بازو کے نظریات کے قریبی حامی بن گئے اور 1998 میں شاویز کے انتخاب کے بعد قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، وقت کے ساتھ وہ قومی اسمبلی کے صدر اور پھر وزیر خارجہ بنے جہاں انہوں نے تیل سے مالی معاونت کے پروگراموں کے ذریعے عالمی سطح پر اتحاد مضبوط کیے۔

2012 میں شاویز نے مادورو کو اپنا جانشین نامزد کیا، شاویز کی وفات کے بعد 2013 میں مادورو معمولی فرق سے صدر منتخب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: روسی تیل پر تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت کو دھمکی

ان کے دورِ حکومت میں وینزویلا شدید معاشی بحران کا شکار ہوا جس میں بے قابو مہنگائی، خوراک کی قلت اور دھاندلی زدہ انتخابات کے الزامات شامل تھے،2014 اور2017 میں احتجاجی مظاہروں کو تشدد سے کچلنے کے باعث لاکھوں افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

2016 میں مادورو نے معاشی ایمرجنسی نافذ کی جس کے بعد آئینی ایمرجنسی بھی لگائی گئی، ناقدین کے مطابق وہ ایک آمر تھے جنہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو قید یا سیاست سے باہر کر دیا۔

امریکا اور دیگر طاقتوں نے ان پر پابندیاں عائد کیں اور ان کی گرفتاری پر پانچ کروڑ روپے تک انعام رکھا گیا جس کی مادورو نے تردید کی۔

یہ بھی پڑھیں: عمان کا پاکستانیوں کے لیے داخلے کے سخت قواعد متعارف

جنوری 2025 میں انہوں نے تیسری مدت کا آغاز کیا، تاہم یہ انتخابات بڑے پیمانے پر دھاندلی زدہ قرار دیے گئے، احتجاجی مظاہروں کو سختی سے دبایا گیا اور ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا۔

اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کے مطابق بولیوارین نیشنل گارڈ نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور انسانیت کے خلاف جرائم کیے جن میں اکثر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں سزا سے استثنا حاصل رہا۔

اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو، جنہیں 2025 کا نوبل امن انعام ملا، مادورو کی گرفتاری کے بعد سیاسی جدوجہد میں ایک اہم شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں، مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کا مستقبل غیر یقینی ہے اور پورا خطہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔